ہیضہ ایک متعدی بیماری ہے جو پانی اور خوراک میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے ذریعے پھیلتی ہے جسے 'ویبرو کولرا' کہتے ہیں۔ ہیضہ شدید اسہال کا سبب بنتا ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ ممکنہ طور پر جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلے کے بعد ہیضے کی وباء اکثر پھیل جاتی ہے، جس کی وجہ علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو نُقصان پَہُنچنا ہے، جیسے گٹر کی نالیوں کی تباہی۔

ہیضہ اِن خطوں میں عام ہے جہاں پینے کے صاف پانی اور صفائی کے مناسب نظام تک رسائی کا فقدان ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں یہ بیماری ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس سے ہر سال کئی افراد متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ملک میں سیلاب کے باعث سیلاب متاثرین میں ہیضہ کے ساتھ پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

Cholera awareness.png

اِس مضمون میں ہم ہیضے کی وجوہات، اس کی علامات اور علاج کے ساتھ ساتھ اُن احتیاطی تدابیر پر بات کریں گے جو کہ ہیضے کے انفیکشن سے بچنے کے لیے اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، ہم زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران ہیضے کے پھیلاؤ کے خطرات کی بھی وضاحت کریں گے۔

ہیضے کے پھیلاو کی وجوہات

ہیضہ ایک ایسی بیماری ہے جو آلودہ یا گندے پانی / خوراک اور ہاتھ نہ دھونے سے منہ میں داخل ہونے والے مواد سے پھیلتی ہے۔

آپ کو درج ذیل سے ہیضہ ہو سکتا ہے:

  • گندے یا آلودہ  پانی کے استعمال سے۔ 
  • گندے پانی سے بنایا گیا کھانا کھانے سے یا جس کھانے پر مکھیاں بیٹھی ہوں۔ 
  • وہ سبزیاں یا پھل کھانے سے جو انسانی فضلے سے آلودہ پانی سے اگائی گئی ہوں۔ 
  • کچی یا کم پکی مچھلی یا سمندری غذا سے جو آلودہ پانی سے پکڑی گئی ہوں۔ 
  • رفع حاجت کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھانا۔ 

ہیضے کی علامات

ہیضے کی بیماری کے جراثیم انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد اِس کی علامات ظاہر ہونے میں چند گھنٹے یا پانچ دن تک کا وقت لگتا ہے۔ ہیضے کے زیادہ تر مریضوں میں کوئی علامات پیدا نہیں ہوتی ہیں یا بہت ہلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں, تاہم ان لوگوں کے لیے جو ہیضے کی سب سے عام علامت  میں اسہال کے ساتھ الٹی شامل ہے۔ اسہال اور الٹی جسم سے پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی کا باعث بنتی ہے۔

پانی کی کمی کا اگر فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو یہ کمی اعضاء کی خرابی یا موت کا باعث بن سکتی ہے۔ پانی کی کمی کی علامات درج ذیل ہیں:

  • قے
  • پیاس
  • چڑچڑاپن یا بےچینی
  • سستی
  • سانس لینے میں دشواری
  • پانی کی کمی کی علامات میں درج ذیل شامل ہیں
  • دل کی دھڑکن میں تیزی
  • خشک ناک
  • کم بلڈ پریشر
  • دھنسی ہوئی آنکھیں 
  • بہت زیادہ پانی والا اسہال، جسے کبھی کبھی "چاول کے پانی کے پاخانے" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
  • جلد کی لچک میں کمی، مثال کے طور پر، کھینچنے پر جلد کا اپنی معمول کی حالت پر واپس نا آنا۔

تشخیص

ہیضے کی علامات عام طور پر بہت واضح ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس کی تشخیص کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ تاہم، تشخیص کی تصدیق کے لیے ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تشخیض کے دوران کوئی غلطی نا ہو۔

علاج

ہیضے کا علاج عام طور پر تین مراحل میں کیا جاتا ہے۔

i. ری ہائیڈریشن یعنی جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا

ہیضے کا پہلا اور سب سے اہم علاج اورل ہائیڈریشن سلوشن (او آر ایس) کے ذریعے مریض کے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی مریض ہے جسے اسہال ہے اور قے آرہی ہے تو اسے فوراً او آر ایس دیں۔ یہ کسی بھی میڈیکل سٹور سے پیکٹ کی شکل میں خریدا جا سکتا ہے یا گھر پر بنایا جا سکتا ہے۔

او آر ایس بنانے کا طریقہ:

1. پانی کو ابال کر ٹھنڈا کریں

2. ایک لیٹر پانی، چھے چائے کے چمچ چینی، آدہ چائے کا چمچ نمک اور ایک لیموں برتن میں

 نچوڑیں۔

3. تمام اجزاء کو ایک صاف بوتل، جگ یا پیالے میں ملائیں۔

اورل ری ہائیڈریشن تھراپی (او آر ایس) کی تجویز کردہ مقدار

بالغوں اور بڑے بچوں کے لیے، علامات کم ہونے تک 1 لیٹر او آر ایس فی گھنٹہ تجویز کیا جاتا ہے۔ جبکہ بچوں کے لیے 20 ملی لیٹر فی کلوگرام جسمانی وزن کے حصاب سے فی گھنٹہ۔ مثال کے طور پر، اگر کسی بچے کا وزن 8 کلوگرام ہے تو اسے 160 ملی لیٹر او آر ایس فی گھنٹہ دینا چاہیے۔

اگر مریض کی حالت بہتر نا ہو تو مریض کو فوری طور پر ہسپتال لے جانا چاہیے تاکہ مریض کی انٹراوینس ری ہائیڈریشن تھراپی ( جو ڈرپ سے دی جاتی ہے) شروع کر دی جائے۔

نوٹ: اسہال کے مریضوں کو زیادہ چینی والے مشروبات جیسے جوس، سافٹ ڈرنکس یا شربت دینے کی سفارش نہیں کی جاتی کیونکہ وہ بیماری علامات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ مریض کو او آر ایس، پانی، یا سُوپ دینا چاہیے۔

ii. اینٹی بائیوٹکس

ری ہائیڈریشن تھراپی کے ساتھ شدید بیماری کی صورت میں مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر کوئی اینٹی بائیوٹکس نہیں لینی چاہئیں۔

iii۔ زنک سے علاج

ہیضے میں مبتلا بچوں کے لیے زنک سے علاج کیا جاتا ہے۔ زنک سپلیمنٹس ڈاکٹر کی سفارش کے بغیر نہیں لینے چاہئیں۔

نوٹ: ہیضے سے متاثرعلاقوں میں، ہیضے کی ویکسین دی جاتی ہے۔ اگر آپ کے علاقے میں ہیضہ وبائی شکل اختیار کر چکا ہے تو قریبی مرکز صحت سے ہیضے کی ویکسین کی دستیابی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

ہیضے سے بچاو کے لئے احتیاتی تدابیر

مندرجہ ذیل اقدامات سے ہیضے سے بچا جا سکتا ہے۔

1۔ صاف پانی کا استعمال

ہیضہ بنیادی طور پر آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتا ہے۔ اپنے خاندان اور اپنے آپ کو ہیضے سے بچانے کے لیے یا تو پینے سے پہلے پانی کو ابالیں، پانی کو فلٹر کریں یا پانی صاف کرنے والی گولیاں استعمال کریں۔

2۔ صاف کھانا کھائیں

آپ یہ یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں کہ آپ جو کھانا لے رہے ہیں وہ محفوظ ہے اور آپ کو بیمار نہیں کرے گا۔

  • کھانے سے پرہیز کریں جس کا ذریعہ معلوم نہ ہو۔
  • کھانا تیار کرنے اور کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے۔
  • کھانا بنانے کے لیے صاف پانی کا استعمال کریں۔
  • پھلوں اور سبزیوں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔
  • کھانے سے پہلے پھل اور سبزیاں چھیل لیں۔
  • کچی یا کم پکی ہوئی مچھلی یا سمندری غذا کا استعمال نہ کریں۔
  • کچے یا کم پکے ہوئے گوشت سے پرہیز کریں۔
  • غیر پیسٹورائزڈ دودھ نہ پیئے۔
  • تازہ پکا ہوا اور گرم کھانا کھائیں۔
  • مکھیوں سے بچانے کے لیے پکا ہوا کھانا اچھی طرح ڈھانپ دیں۔

3۔ ہاتھ دھوئیں

واش روم استعمال کرنے کے بعد یا ہر کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جو پانی ہاتھ دھونے کے لیے استعمال کر رہے ہیں وہ صاف ہے۔

4. عمومی حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں

اپنے آپ کو ہیضے سے بچانے کے لیے عام حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

آپ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

  • اپنے ہاتھ اور چہرہ دھوئیں۔
  • اپنے دانتوں کو باقاعدگی سے برش کریں۔
  • اپنے ناخن کاٹیں اور انہیں باقاعدگی سے صاف کریں۔
  • اپنے اردگرد کو صاف ستھرا رکھیں۔
  • اپنے گھر اور گردونواح کو صاف ستھرا رکھیں۔
  • ہیضہ اور دیگر بے شمار بیماریوں سے بچنے کے لیے اپنے گھر اور گردونواح کو صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔
  • اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے واش روم کو باقاعدگی سے صاف اور جراثیم سے پاک کیا گیا ہے۔
  • موسم بہار اور مون سون کے دوران مکھیوں کی شدت زیادہ ہوتی ہے جو ہیضے کا سبب بن سکتی ہیں، اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے گھر کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھیں تاکہ مکھیاں داخل نہ ہو سکیں۔

اپنے سوال بولو کو بھیجیں!

قدرتی آفات کے دوران حفاظتی تدابیر یا امدادی اداروں کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ ہم سے بولو فیس بک پیج کے ذریعے سے براہ راِست رابطہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ٹیم پیر سے جمعہ صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک سوالات کا جواب دیتی ہے۔